پیغمبروں کی حالات زندکی

قرآن کے تاریخی مقامات

تاریخ اسلامی کی کتب

سرکار دو جہاں کا شجرہ مبارک

غسل

شریعت کی رو سے غسل سے مراد پاک پانی کا تمام ظاہری بدن پر خاص طریقے سے بہانا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالٰیٰ نے فرمایا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ‎ 

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرور سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو

غسل کے فرض ہونے کی صورتیں

مباشرت کے دوران مرد کے ذکر کی ٹوپی عورت کی فرج میں داخل ہونے سے مرد اور عورت دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔

احتلام کی صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔

عورت حیض اور نفاس سے فارغ ہو تو اس پر غسل فرض ہے۔

مباشرت کے علاوہ کسی بھی دوسرے طریقے سے شہوت حاصل کرتے ہوئے انزال ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔

اگر شہوت کے علاوہ کسی دوسری وجہ مثلا محنت و مشقت یا کسی بیماری کی وجہ سے انزال ہو جائے تو غسل واجب نہیں، التبہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔

اگر پتلی منی پیشاب کے ساتھ بغیر شہوت کے نکلی تو غسل فرض نہیں۔

سو کر اٹھنے کے بعد کپڑوں پر کچھ نشانات پائے گئے تو اس پر غسل کی چند صورتیں ہیں

اگر اس کے ودی یا مذی دونوں میں سے ایک کے ہونے کا یقین یا اِحتمال ہو تو غسل واجب نہیں۔

اگر یقین ہے کہ منی یا مذی نہیں کچھ اور ہے تو غسل واجب نہیں۔

اگر منی ہونے کا یقین ہے مگر مذی کا شک ہے اور اگر خواب میں احتلام ہونا یاد نہیں تو غسل ضروری نہیں ورنہ ہے۔

غسل کی تین اقسام

 غسلِ مستحب

غسلِ مسنون

غسلِ فرض

 غسلِ مستحب

درج ذیل امور کے لیے غسل کرنا مستحب ہے

جو آدمی پاکیزگی کی حالت میں مسلمان ہوا ہو۔

جو بچہ عمر کے اعتبار سے بالغ ہو۔

جو شخص جنون کے عارضہ سے صحت یاب ہوا ہو۔

نشتر لگوانے کے بعد۔

میت کو غسل دینے کے بعد۔

شبِ برات میں عبادت کے لیے۔

لیلۃ القدر میں بطورِ خاص عبادت کے لیے۔

مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے۔

مدینہ طیبہ میں داخل ہونے کے لیے۔

قربانی کے دن مزدلفہ میں ٹھہرنے کے لیے۔

طوافِ زیارت کے لیے۔

سورج گرہن کی نماز کے لیے۔

نمازِ اِستقاء کے لیے۔

خوف کے وقت۔

دن میں سخت اندھیرے کے وقت۔

تیز آندھی کے وقت۔

درج ذیل صورتوں میں غسل فرض ہو جاتا ہے

جنبی کے لیے

عورت کا حیض و نفاس سے فارغ ہونے کے بعد۔

شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا۔

غسلِ مسنون

درج ذیل امور کی ادائیگی کے لیے غسل کرنا سنت ہے

جمعہ کی نماز کے لیے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

اَلْغُسْلُ يَوْمَ الجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُحْتَلِمٍ
بخاری، الصحيح، کتاب الجمعة، باب الطيب للجمعة، 1 : 300، رقم : 840

’’ہر بالغ پر جمعہ کا غسل لازم ہے۔‘‘

عیدین کی نماز کے لیے۔

حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے۔

حج کرنے والوں کے لیے میدان عرفات میں زوال کے بعد۔

غسلِ فرض

درج ذیل صورتوں میں غسل فرض ہو جاتا ہے

جنبی کے لیے

عورت کا حیض و نفاس سے فارغ ہونے کے بعد۔

شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا۔

غسل کا مسنون طریقہ

نیت کرے۔
بسم اللہ سے ابتدا کرے۔
دونوں ہاتھوں کو کلائییوں تک دھوئے۔
جسم پر جہاں کہیں نجاست(ناپاکی) لگی ہو اسے دھلے۔
پھر وضو کرے جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے اگر ایسی جگہ کھڑا ہے۔ جہاں پانی جمع ہو جاتا ہے تو پاؤں کو آخر میں غسل کے بعد دھوئے۔
تین بار سارے جسم پر پانی بہائے۔
پہلے دائیں کندھے کی طرف سے پانی بہائے۔
پھر بائیں کندھے کی طرف پانی بہانے کے بعد پورے بدن پر تین بار پانی ڈالے۔
وضو کرتے وقت اگر پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھو لے۔
غسل واجب کی صورت میں جسم پر لگی ہوئی نجاست کو پہلے دھونا سنت ہے۔
شاور، ٹوٹی، نل اور ٹب وغیرہ کے ذریعے غسل کرنے کے لیے پہلے اچھی طرح کلی کریں اور ناک میں نرم ہڈی تک پانی ڈالیں اور پھر پورے بدن پر کم از کم ایک مرتبہ اس طرح پانی بہائیں کہ بدن کا کوئی حصہ بال برابر بھی خشک نہ رہے تو غسل کے واجبات ادا ہو جائیں گے۔

تالاب یا نہر میں غسل کا طریقہ

تالاب، دریا یا نہر میں نہانے سے پہلے کلی کریں پھر ناک میں پانی ڈال کر خوب صاف کریں اور تھوڑی دیر اس میں ٹھہرنے سے غسل کی سب سنتیں ادا ہو جائیں گی۔ اور اگر تالاب اور حوض یعنی ٹھہرے ہوئے پانی میں نہائیں تو بدن کو تین بار حرکت دینے یا جگہ بدلنے سے غسل ہو جائے گا۔

سر کے بالوں کا دھونا

اگر غسل کرنے والی عورت کے سر کے بالوں کو کھولے بغیر پانی سر کی جلد تک بخوبی پہنچ جائے تو اس کے لیے سر کے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں۔ تاہم اگر گوندھے ہوئے بالوں کی تہ تک پانی نہ پہنچے تو پھر بالوں کا کھولنا واجب ہے۔

دوران غسل قرآنی آیات اور دعاؤں کا پڑھنا

غسل کرتے ہوئے انسان بالعموم برہنہ ہوتا ہے اس لیے اس دوران قرآنی آیات یا دیگر کوئی دعا وغیرہ پڑھنا جائز نہیں یہاں تک کہ کوئی دنیوی کلام کرنا بھی منع ہے۔

مکروہات غسل

پانی بہت زیادہ گرانا
اتنا کم پانی لینا کہ اچھی طرح غسل نہ کر سکے

غسل میں پانچ سنتیں ہیں

دونوں ہاتھ گٹوں تک دھو
استنجا کرنا اور جس جگہ بدن پر نجاست لگی ہو اسے دھونا
ناپاکی دور کرنے کی نیت کرنا
پہلے وضو کرلینا
تمام بدن پر تین بار پانی بہانا۔ غسل میں کوئی واجب نہیں ہے۔

غسل کے تین فرائض ہیں

کلی کرنا
ناک میں پانی ڈالنا
پورے ظاہری بدن پر پانی بہانا۔