ایمان کیا ہے
ایمان کی دو حالتیں ہیں
ائمہ و محدثین نے ایمان اور ایمانیات کو قرآن و حدیث سے اخذ کر کے اس کی تعلیم کو آسان اور سادہ طریقے سے سمجھانے کے لئے نہایت خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔ علمائے اسلام نے ایمان کی صفات کو دو طرح سے بیان کیا ہے
ايمانِ مُجْمَل
ايمانِ مُفَصَّل
اِیمانِ مُجْمَل میں ایمانیات کو نہایت مختصر مگر جامع طریقے سے بیان کیا گیا ہے کیونکہ مُجْمَل کا معنی ہی ’’خلاصہ‘‘ ہے۔ اس میں اللہ پر ایمان لانے کا ذکر اس طرح ہوا ہے کہ بغیر اعلان کیے جملہ ایمانیات اس میں در آئیں،جبکہ ایمانِ مُفَصَّل میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت شدہ ایمانیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
ایمان مجمل
ایمان مفصل
ارکان ایمان
ایمان کے چھ ارکان ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ جبرائیل فرشتہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا:تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، روز قیامت پر اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لاؤ (صحیح مسلم)۔ نیز مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانا جیسا کہ ایمان مفصل میں ہے آمنت باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاآخر والقدر خیر وشرہ من اللہ اللہ تعالیٰ والبعث بعد الموت۔
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اللہ کے پاس سے آئے ہوئے احکام کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنے کا نام ایمان ہے۔
ایمان شریعت اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ اس کے لغوی معنی تصدیق کرنے (سچا ماننا) کوکہتے ہیں۔ ایمان کا دوسرا لغوی معنیٰ ہیں امن دینا، اصطلاح شرع میں ایمان سے مراد سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرنے کا نام ہے جو ضروریاتِ دیں سے ہیں۔ ایمان کا الٹ کفر ہے۔
ایمان عربی زبان کا لفظ ہے، اس کا مادہ ’’ا۔ م۔ ن‘‘ (امن) سے مشتق ہے۔ لغت کی رو سے کسی خوف سے محفوظ ہو جانے، دل کے مطمئن ہو جانے اور انسان کے خیر و عافیت سے ہمکنار ہونے کو امن کہتے ہیں۔ ایمان کا لفظ بطور فعل لازم استعمال ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے ’’امن پانا‘‘ اور جب یہ فعل متعدی کے طور پر آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے ’’امن دینا‘‘۔کسی پر ایمان لانے سے مراد اس کی تصدیق کرنا اور اس پر یقین رکھنا ہے۔ گویا لفظ ایمان اپنے اصل معنی اور مفہوم کے اعتبار سے امن، امانت اور بھروسے پر دلالت کرتا ہے۔ شرعی معنوں میں دل سے یقین، زبان سے اظہار، جسمانی طور پر عمل کا نام ایمان ہے جبکہ اطاعت سے ایمان میں اضافہ اور نافرفانی سے کمی واقع ہوتی ہے۔
حضرت حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : ’’اے حارث! (سناؤ) تم نے صبح کیسے کی؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے ایمان کی حقیقت پاتے ہوئے صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حارث! غور کر کے بتاؤ تم کیا کہہ رہے ہو؟ بے شک ہر شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے اپنے نفس کو دنیا کی محبت سے جدا کر لیا ہے اور راتوں کو جاگ کر عبادت کرتا ہوں اور دن کو (روزے کے سبب) پیاسا رہتا ہوں گویا میں اپنے رب کے عرش کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور مجھے ایسے لگتا ہے جیسے جنتی ایک دوسرے کی زیارت کرتے جا رہے ہیں اور دوزخیوں کو (اس حالت میں) دیکھتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے پر گر رہے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حارث تم عارف ہو گئے، پس اس (کیفیت و حال) کو تھامے رکھو اور یہ (جملہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔‘
کسی چیز کا محض علم آ جانے سے ایمان حاصل نہیں ہوتا، اگر ایمان علم ہی سے حاصل ہوتا تو کوئی ان پڑھ مومن نہ ہوتا اور نہ کوئی علم والا کافر ہوتا جیسا کہ ابو جہل اور اس کے ساتھی کہا کرتے تھے
قرآن میں ارشاد ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ آمِنُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى
رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِيَ أَنزَلَ مِن قَبْلُ وَمَن يَكْفُرْ بِاللّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِيدًا
النساء، 4 : 136
’’اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے (اس سے) پہلے اتاری تھی ایمان لاؤ، اور جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو بیشک وہ
دور دراز کی گمراہی میں بھٹک گیا
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّهِ
وَمَلَآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ
البقره، 2 : 285
’’وہ رسول اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہل ایمان بھی، سب ہی (دل سے) اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘
ایمان بالملائکہ
فرشتے اللہ کی نورانی مخلوق ہیں نہ مرد اور نہ عورت اللہ کی ذرا برابر نا فرمانی نہیں کرتے
ایمان باللہ
ایمان باﷲ، یعنی اللہ تعالیٰ کے واحد و یکتا ہونے، اس کے خالق و مالک ہونے، اس کے پروردگار اور حاجت روا ہونے، اس کے تنہا معبود برحق ہونے کا زبان سے اقرار اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اس کی تصدیق کی جائے نیز اس کے مطابق اپنے عمل وکردار کو بنایا جائے تو اس اقرار و تصدیق اور عمل کے مجموعے کا نام ایمان باﷲ ہے، جو اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔
ایمان بالرسالت
ایمان بالرسالۃ کا مطلب ہے رسولوں پر ایمان لانا۔ اللہ رب العزت نے انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ہی رسولوں اور نبیوں کا سلسلہ شروع فرمایا ہے، سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے اور سب سے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس دوران اللہ تعالی نے بے شمار انبیا کرام مبعوث فرمائے اور وہ سب انسانیت کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ ایمان بالرسالۃ میں یہ بات بھی داخل ہے کہ گزشتہ انبیا کرام پر ایمان رکھا جائے۔ ایمان بالرسالۃ کا اہم ترین جزو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھنا بھی شامل ہے۔
ایمان بالکتب
ایمان بالکتب یہنی اللہ کی بھیجی ھوئی نبیون مین جنھین کتاب دیے ان پر ایمان رکھنا۔جیسی کی انجیل حضرت عیسیء پر نازل ھئی۔زبور حضرت داودء پر نازل ھئی۔توریت حضرت موسئ پر نازل ھئی۔اور قران مجید اخری نبی حضرت محمد مصطفئ پر نازل کی گئی۔
حقیقت ایمان
ایمان قلب و باطن کی یقینی حالت کا نام ہے جس میں قلب و باطن دنیا کی محبت سے خالی اور اللہ کی محبت سے معمور ہوں۔ اس کی وضاحت درج ذیل حدیث مبارکہ سے ہوتی ہے
ایمان بالآخرۃ
اللہ رب العزت نے انسانیت کو اس دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے اور زندگی گزارنے کے دو طریقے بتائے ہیں، ایک وہ راستہ جو اللہ کی مرضی کا ہے، دوسرا وہ راستہ جو نفس وشیطان کی خواہش کے مطابق ہے اور پھر اللہ نے ہر آدمی کو اختیار دیا ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے، آخرت میں اس دنیا میں کیے ہوئے سب اعمال کا حساب ہوگا، کامیاب لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا، جبکہ ناکام لوگوں کے لیے جہنم ہے۔
حضرت حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : ’’اے حارث! (سناؤ) تم نے صبح کیسے کی؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے ایمان کی حقیقت پاتے ہوئے صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حارث! غور کر کے بتاؤ تم کیا کہہ رہے ہو؟ بے شک ہر شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے اپنے نفس کو دنیا کی محبت سے جدا کر لیا ہے اور راتوں کو جاگ کر عبادت کرتا ہوں اور دن کو (روزے کے سبب) پیاسا رہتا ہوں گویا میں اپنے رب کے عرش کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور مجھے ایسے لگتا ہے جیسے جنتی ایک دوسرے کی زیارت کرتے جا رہے ہیں اور دوزخیوں کو (اس حالت میں) دیکھتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے پر گر رہے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حارث تم عارف ہو گئے، پس اس (کیفیت و حال) کو تھامے رکھو