پیغمبروں کی حالات زندکی

قرآن کے تاریخی مقامات

تاریخ اسلامی کی کتب

سرکار دو جہاں کا شجرہ مبارک

وضو

وضو صفائی کے ایک عمل کا نام ہے جو مسلمانوں پر نماز یا قرآن کو چھونے سے پہلے واجب ہے۔ اس میں پانی کی مدد سے منہ ہاتھ دھوئے جاتے ہیں اور مسح کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں وضو کے مختلف طریقے رائج ہیں مگر کم و بیش ایک جیسے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد جسمانی و روحانی پاکیزگی ہے۔ قرآن میں ایک آیت آیۂ وضو کے نام سے موجود ہے جس میں وضو کے طریقہ پر روشنی پڑتی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ
ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہرے، ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لو۔ [ المائدة:6]

وضو کا طریقہ

 کعبۃُ اللّٰہ شریف کی طرف منہ کر کے اُونچی جگہ بیٹھنا مستحَب ہے۔
وُضو کیلئے نیّت کرنا سنّت ہے اِس طرح نیّت کیجئے کہ میں حُکمِ الٰہیعَزَّ وَجَلَّبجا لانے اور پاکی حاصل کرنے کیلئے وُضو کر رہا ہوں ۔
بسمِ اللّٰہِ وَالحمدُ لِلّٰہِ کہہ لیجئے کہ جب تک باوُضو رہیں گے فِرشتے نیکیاں لکھتے رہیں گے
اب دونوں ہاتھ تین تین بارپَہنچوں تک دھوئیے، (نل بند کرکے ) دونوں ہاتھوں کی اُ نگلیوں کا خِلال بھی کیجئے ۔ کم از کم تین تین بار دائیں بائیں اُوپر نیچے کے دانتوں میں مِسواک کیجئے
اب سیدھے ہاتھ کے تین چُلّو پانی سے( ہر بار نل بند کرکے) اس طرح تین کُلّیاں کیجئے کہ ہر بارمُنہ کے ہر پرزے پر (حلق کے کَنارے تک ) پانی بہ جائے ،اگر روزہ نہ ہو تو غَرغَرہ بھی کرلیجئے۔
پھر سیدھے ہی ہاتھ کے تین چُلّو (اب ہر بار آدھا چُلّو پانی کافی ہے ) سے ( ہر بار نل بند کرکے) تین بار ناک میں نرم گوشت تک پانی چڑھائیے اور اگر روزہ نہ ہو تو ناک کی جڑ تک پانی پہنچائیے، اب(نل بند کرکے) اُلٹے ہاتھ سے ناک صاف کرلیجئے اور چھوٹی اُنگلی ناک کے سُوراخوں میں ڈالئے ۔
تین بار سارا چِہرہ اِس طرح دھوئیے کہ جہاں سے عادَتاًسر کے بال اُگنا شروع ہوتے ہیں وہاں سے لیکرٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لَو سے دوسرے کان کی لَو تک ہر جگہ پانی بہ جائے ۔ اگر داڑھی ہے اور اِحرام باندھے ہوئے نہیں ہیں تو( نل بند کرنے کے بعد) اِسطرح خِلال کیجئے کہ اُنگلیوں کو گلے کی طرف سے داخِل کر کے سامنے کی طرف نکالئے ۔
پھر پہلے سیدھا ہاتھ اُنگلیوں کے سرے سے دھونا شروع کر کے کہنیوں سمیت تین بار دھوئیے ۔اِسی طرح پھر اُلٹا ہاتھ دھولیجئے۔ دونوں ہاتھ آدھے بازو تک دھونا مستحب ہے ۔اکثر لوگ چُلّو میں پانی لیکر پہنچے سے تین بار چھوڑ دیتے ہیں کہ کہنی تک بہتا چلا جاتا ہے اس طرح کرنے سے کہنی اور کلائی کی کروٹوں پر پانی نہ پہنچنے کا اندیشہ ہے لہٰذا بیان کردہ طریقے پر ہاتھ دھوئیے۔ اب چُلّو بھر کر کہنی تک پانی بہانے کی حاجت نہیں بلکہ( بِغیر اجازتِ صحیحہ ایسا کرنا) یہ پانی کا اِسرا ف ہے۔
اب(نل بند کرکے) سر کا مسح اِس طرح کیجئے کہ دونوں اَنگوٹھوں اور کلمے کی اُنگلیوں کو چھوڑ کر دونوں ہاتھ کی تین تین اُنگلیوں کے سِرے ایک دوسرے سے مِلا لیجئے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر کھینچتے ہوئے گُدّی تک اِس طرح لے جائیے کہ ہتھیلیاں سَر سے جُدا ر ہیں ، پھر گدّی سے ہتھیلیاں کھینچتے ہوئے پیشانی تک لے آئیے، کلمے کی اُنگلیاں اور اَنگوٹھے اِس دَوران سَر پر باِلکل مَس نہیں ہونے چاہئیں ، پھر کلمے کی اُنگلیوں سے کانوں کی اندرونی سَطح کا اور اَنگوٹھوں سے کانوں کی باہَری سَطح کا مَسح کیجئے اورچُھنگلیاں (یعنی چھوٹی انگلیاں ) کانوں کے سُوراخوں میں داخِل کیجئے اور اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کے پچھلے حصّے کامَسح کیجئے۔ بعض لوگ گلے کا اور دھلے ہوئے ہاتھوں کی کہنیوں اور کلائیوں کا مَسْح کرتے ہیں یہ سنّت نہیں ہے۔ سر کا مسح کرنے سے قبل ٹونٹی اچھی طرح بند کر نے کی عادت بنالیجئے بِلا وجہ نل کُھلا چھوڑ دینا یا اَدھورا بند کرنا کہ پانی ٹپک کر ضائع ہوتارہے اِسراف وگُنا ہ ہے ۔
پہلے سیدھا پھر اُلٹا پاؤں ہر بار اُنگلیوں سے شُروع کرکے ٹخنوں کے او پر تک بلکہ مستحَب ہے کہ آدھی پِنڈلی تک تین تین باردھولیجئے۔ دونوں پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال کرنا سنّت ہے۔(خِلال کے دَوران نل بند رکھئے ) اس کا مُستحَب طریقہ یہ ہے کہ اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا سے سیدھے پاؤں کی چھنگلیا کا خِلا ل شروع کر کے اَنگوٹھے پر ختم کیجئے اور اُلٹے ہی ہاتھ کی چھنگلیا سے اُلٹے پاؤں کے انگوٹھے سے شروع کر کے چھنگلیاپر ختم کرلیجئے۔

وضو کا طریقہ

وضو شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے ہیں

اس کے بعد اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھویں

پھر تین دفعہ کلی کریں

اس کے بعد ناک میں تین مرتبہ پانی ڈالیں

پھر اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویں

اس کے بعد اپنا دایان ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویں

اس کے بعد اپنا بایان ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویں

پھر سر کا مسح کریں

مسح کرنے کے بعد اپنا دایاں پاوں ٹخنے تک تین مرتبہ دھویں

اسی طرح اپنا دایاں پاوں ٹخنے تک تین مرتبہ دھویں

وضو کے بعد آسمان کی طرف منہ کر کے کلمہ پڑھنا

وضوء كى شروط

سلام: كافر كا وضوء صحيح نہيں ہوگا۔
عقل: اس طرح پاگل اور مجنون كا وضوء صحيح نہيں۔
تمييز: چھوٹے بچے اور جو تميز نہ كر سكے اس كا وضوء صحيح نہيں۔
نيت: بغير نيت وضوء صحيح نہيں، مثلا كوئى شخص ٹھنڈك حاصل كرنے كے ليے وضوء كرے تو اس كا وضوء صحيح نہيں۔
وضوء كرنے كے ليے پانى طاہر ہونا بھى شرط ہے، كيونكہ اگر پانى نجس ہو تو اس سے وضوء صحيح نہيں۔
اسى طرح اگر جلد يا ناخن پر كوئى چيز لگى ہو جس سے پانى نيچے نہ پہنچے تو اسے اتارنا بھى شرط ہے، مثلا عورتوں كى نيل پالش وغيرہ۔

وضو کی سنتیں

نیت کرنا یعنی اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی نیت سے وضو کرنا۔
بسم اللّٰہ سے وضو شروع کرنا۔
دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک تین تین بار دھونا۔ پہلے دایاں اور پھر بایاں ہاتھ دھونا۔
دانتوں میں مسواک کرنا۔ (کم سے کم تین بار داہنے بائیں اوپر نیچے کے دانتوں پر)
داہنے ہاتھ سے تین بار کُلّی کرنا۔ (روزہ دار نہ ہو تو غرارہ بھی کریں)
داہنے ہاتھ سے تین بار ناک میں پانی چڑھانا۔
بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا۔
داڑھی کا خلال کرنا۔ یعنی انگلیوں کو گلے کی طرف سے داڑھی میں ڈال کر ایسے پھیرنا جیسے کنگھا کرتے ہیں۔
ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا۔
وضو میں دھلنے والے ہر حِصّے کو تین بار دھونا۔
پورے سِر کا مسح کرنا۔
کانوں کا مسح کرنا۔
ترتیب سے وضو کرنا۔
داڑھی کے جو بال منھ کے دائرے سے باہر ہیں انکا مسح کرنا۔
وضو میں دھلنے والے حِصّوں کو پے در پے دھونا یعنی ایک حِصّے کے سوکھنے سے پہلے دوسرے کو دھونا۔
ہر مکروہ کام سے بچنا۔

وضو کے فرائض

وضو کے ارکان اور فرائض چھ ہیں
چہرہ دھونا، منہ اور ناک اس میں شامل ہیں۔
کہنیوں تک ہاتھ دھونا۔
سر کا مسح کرنا۔
ٹخنوں تک پاؤں دھونا۔
وضو کے اعضا دھوتے ہوئے ترتیب قائم رکھنا
وضو کے لیے تسلسل کے ساتھ اعضا دھونا، یعنی مطلب یہ ہے کہ اعضا کو دھوتے ہوئے درمیان میں لمبا فاصلہ نہ آئے۔

وضومیں مکروھات

پانی میں اسراف کرنا یعنی ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا۔
اس قدر پانی خرچ کرنے میں کمی کرنا کہ جس کی وجہ سے اعضاء وضو کے دھلنے میں نقصان رہ جائے۔
حالت وضو یعنی وضوء کرتے ہوئے دنیاوی باتیں کرنا۔
دیگر اعضاء کا بغیر کسی ضرورت کے وضو میں دھونا۔
منھ ودیگر اعضاء پر زور سے چھنیٹیں مارنا۔
تین بار سے زیادہ اعضائے وضو کو دھونا۔
نئے پانی سے تین بار مسح کرنا۔

وضو کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے

پیشاب اور پاخانے کے مقام سے نکلنے والی چیزیں وضو کو توڑدیتی ہیں
اسی طرح بدن کے کسی دوسرے حصے سے کسی نجس چیز کا نکل کر بہہ جانا
منھ بھر قے کرنا
ٹیک لگاکر یا لیٹ کر سوجانا
نماز میں کسی بالغ آدمی کا قہقہہ لگانا بھی وضو کو توڑدینے والی چیزیں ہیں
اس کے علاوہ بے ہوشی، پاگل پن اور نشہ وغیرہ بھی ناقض وضو ہوتی ہیں

وضو کی دعائیں

جب وضو کرنا شروع کرے تو یہ پڑھے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔
بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ اس کا وضو ہی نہیں جس نے بِسْمِ اللهِ نہ پڑھی ہو۔
وضو کے درمیان یہ پڑھے
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ، وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ، وَبَارِكْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ۔
اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، اور میرے (قبر کے) گھر کووسیع فرما، اور میرے رزق میں برکت دے۔
جب وضوکر چکے تو آسمان کی طرف منہ اٹھا کر یہ پڑھے
اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰه وَحْدَهٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ، وَاَشْهَدُ
اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
اس کووضو کے بعد پڑھنے سے پڑھنے والے کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔

وُضو کے مستحبات

داہنی جانب سے ابتدا کریں مگر
دونوں رخسارے کہ ان دونوں کو ساتھ ہی ساتھ دھوئیں گے ایسے ہی
دونوں کانوں کا مسح ساتھ ہی ساتھ ہو گا۔
ہاں اگر کسی کے ایک ہی ہاتھ ہوتومونھ دھونے اور مسح کرنے میں بھی دہنے کو مقدم کرے
اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کا مسح کرنا
وُضو کرتے وقت کعبہ رو اونچی جگہ بیٹھنا۔
وُضو کا پانی پاک جگہ گرانا اور پانی بہاتے وقت اعضا پر ہاتھ پھیرنا خاص کر جاڑے میں۔
پہلے تیل کی طرح پانی چُپڑ لینا خُصُوصاً جاڑے میں۔
اپنے ہاتھ سے پانی بھرنا۔
دوسرے وقت کے لیے پانی بھر کر رکھ چھوڑنا۔
وُضو کرنے میں بغیر ضرورت دوسرے سے مدد نہ لینا۔
انگوٹھی کو حرکت دینا جب کہ ڈھیلی ہو کہ اس کے نیچے پانی بہ جانا معلوم ہو ورنہ فرض ہو گا۔
صاحبِ عُذر نہ ہو تو وقت سے پہلے وُضو کر لینا۔
اطمینان سے وُضو کرنا۔ عوام میں جو مشہور ہے کہ وُضو جَوان کا سا، نماز بوڑھوں کی سی یعنی وُضو جلد کریں ایسی جلدی نہ چاہیے جس سے کوئی سنت یا مستحب ترک ہو۔
کپڑوں کو ٹپکتے قطروں سے محفوظ رکھنا۔
کانوں کا مسح کرتے وقت بھیگی چھنگلیا کانوں کے سوراخ میں داخِل کرنا
جو وُضو کامل طور پر کرتا ہو کہ کوئی جگہ باقی نہ رہ جاتی ہو، اسے کوؤں، ٹخنوں، ایڑیوں، تلوؤں، کُونچوں، گھائیوں، کُہنیوں کابالتخصیص خیال رکھنا مستحب ہے اور بے خیالی کرنے والوں کو تو فرض ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ مَوَاضِع خشک رہ جاتے ہیں یہ نتیجہ ان کی بے خیالی کا ہے۔ ایسی بے خیالی حرام ہے اور خیال رکھنا فرض۔
وُضو کا برتن مٹی کا ہو، تانبے وغیرہ کا ہو تو بھی حرج نہیں مگر قلعی کیا ہوا۔
اگر وُضو کا برتن لوٹے کی قِسم سے ہو تو بائیں جانب رکھے اور طشت کی قسم سے ہو تو دہنی طرف
آفتابہ میں دستہ لگا ہو تو دستہ کو تین بار دھو لیں ا ور ہاتھ اس کے دستہ پر رکھیں اس کے مونھ پر نہ رکھیں
دہنے ہاتھ سے کُلّی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا
بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا
بائیں ہاتھ کی چھنگلیا ناک میں ڈالنا
پاؤں کو بائیں ہاتھ سے دھونا
مونھ دھونے میں ماتھے کے سرے پر ایسا پھیلا کر پانی ڈالنا کہ اوپر کا بھی کچھ حصہ دھل جائے۔
تنبیہ: بہت سے لوگ یوں کیاکرتے ہیں کہ ناک یا آنکھ یا بھوؤں پر چُلّو ڈال کر سارے مونھ پر ہاتھ پھیرلیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مونھ دُھل گیا حالانکہ پانی کا اوپر چڑھنا کوئی معنی نہیں رکھتا اس طرح دھونے میں مونھ نہیں دُھلتا اور وُضو نہیں ہوتا۔
دونوں ہاتھ سے مونھ دھونا
ہاتھ پاؤں دھونے میں اُنگلیوں سے شروع کرنا
چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی وسیع کرنا یعنی جتنی جگہ پر پانی بہانا فرض ہے اس کے اَطراف میں کچھ بڑھانا مثلاً نصف بازوو نصف پنڈلی تک دھونا
مسحِ سر میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے اور کلمے کی اُنگلی کے سوا ایک ہاتھ کی باقی تین اُنگلیوں کا سرا، دوسرے ہاتھ کی تینوں اُنگلیوں کے سرے سے ملائے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر گُدّی تک اس طرح لے جائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں وہاں سے ہتھیلیوں سے مسح کرتا واپس لائے اور کلمہ کی اُنگلی کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصہ کا مسح کرے اور انگوٹھے کے پیٹ سے کان کی بیرونی سَطح کا اور اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کا مسح۔
ہر عُضْوْ دھو کر اس پر ہاتھ پھیردینا چاہیئے کہ بُو ندیں بدن یا کپڑے پر نہ ٹپکیں، خُصُوصاً جب مسجد میں جانا ہو کہ قطروں کا مسجد میں ٹپکنا مکروہِ تَحْرِیمی ہے۔
بہت بھاری برتن سے وُضو نہ کرے خُصُوصاً کمزور کہ پانی بے اِحْتِیاطی سے گرے گا
زَبان سے کہہ لینا کہ وُضو کرتا ہوں
ہر عُضْوْ کے دھوتے یا مسح کرتے وقت نیّتِ وُضو حاضر رہنا اور بسم اللہ کہنا اور
درود اور اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم)
کُلّی کے وقت اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی تِلَاوۃِ الْقُرْاٰنِ وَذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ
( ناک میں پانی ڈالتے وقت اَللّٰھُمَّ اَرِحْنِیْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ وَلَا تُرِحْنِیْ رَائِحَۃَ النَّار
مونھ دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ بَیِّضْ وَجْھِیْ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ
داہنا ہاتھ دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِيْ کِتَابِیْ بِیمِیْنِیْ وَحَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْراً
بایاں ہاتھ دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ لَا تُعْطِنِیْ کِتَابِیْ بِشِمَالِیْ وَلَا مِنْ وَّرَآءِ ظَھْرِیْ
سر کا مسح کرتے وقت اَللّٰھُمَّ اَظِلَّنِیْ تَحْتَ عَرْشِکَ یَوْمَ لَا ظِلَّ الِاَّ ظِلَّ عَرْشِکَ
کانوں کا مسح کرتے وقت اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِینَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ
گردن کا مسح کرتے وقت اَللّٰھُمَّ اَعْتِقْ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِ
داہنا پاؤں دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قَدَمِیْ عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ الْاَقْدَامُ
بایاں پاؤں دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ ذَنْبِیْ مَغْفُوْرًا وَسَعْیِیْ مَشْکُورًا وَ تِجَارَتِیْ لَنْ تَبُوْرَ پڑھے یا سب جگہ دُرود شریف ہی پڑھے اور یہی افضل ہے۔
وُضو سے فارغ ہوتے ہی یہ پڑھے اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ
بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر تھوڑا پی لے کہ شفائے امراض ہے
آسمان کی طرف مونھ کرکے سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ اور کلمہ شہادت اور سورہ اِنَّا اَنْزَلْنَا پڑھے۔
اعضائے وُضو بغیر ضرورت نہ پُونچھے اور پُونچھے تو بے ضرورت خُشک نہ کرلے ۔
قدرے نم باقی رہنے دے کہ روزِ قیامت پلہ حَسنات میں رکھی جائے گی ۔
ہاتھ نہ جھٹکے کہ شیطان کا پنکھا ہے۔
بعدِ وُضو مِیانی پر پانی چِھڑک لے۔
مکروہ وقت نہ ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھے اس کو تحیۃ الوُضو کہتے ہیں۔