پیغمبروں کی حالات زندکی

قرآن کے تاریخی مقامات

تاریخ اسلامی کی کتب

سرکار دو جہاں کا شجرہ مبارک

غسل کا مسنون طریقہ

غسل کا مسنون اور مستحب طریقہ

بِغیرزَبان ہِلائے دل میں اِس طرح نیّت کیجئے کہ میں پاکی حاصِل کرنے کیلئے غسل کرتاہوں۔پہلے دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین تین بار دھوئیے ، پھراِستِنجے کی جگہ دھوئیے خواہ نَجاست ہویانہ ہو،پھرجِسم پراگرکہیں نَجاست ہوتو اُس  کودُورکیجئےپھرنَمازکاساوُضوکیجئے مگرپاؤں نہ دھوئیے،ہاں اگرچَوکی وغیرہ پر غسل کررہے ہیں توپاؤں بھی دھولیجئے،پھربدن پرتیل کی طرح پانی چُپَڑلیجئے ، خُصو صاً سرد یوں میں (اِس دَوران صابُن بھی لگاسکتے ہیں )پھرتین بار سید ھے کندھے پرپانی بہایئے،پھرتین باراُلٹے کندھے پر، پھرسر پراورتمام بدن پرتین بار، پھر غسل کی جگہ سے الگ ہوجائیے،اگروُضوکرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تواب دھو لیجئے ۔نَہانے میں قِبلہ رُخ نہ ہوں ،تمام بدن پرہاتھ پَھیر کرمل کرنہائیے۔ایسی جگہ نہانا چاہئے جہاں کسی کی نظر نہ پڑے اگریہ ممکِن نہ ہوتومَرد اپناسِتر(ناف سے لے کر دونوں گُھٹنوں سَمیت)کسی موٹے کپڑے سے چھپالے،موٹاکپڑانہ ہوتوحَسبِ ِضَرور ت دو یا تین کپڑے لپیٹ لے کیوں کہ باریک کپڑاہوگاتوپانی سے بدن پرچِپک جا ئے گا اور مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ گُھٹنوں یارانوں وغیرہ کی رنگت ظاہر ہوگی ۔ عورت کو تو اور بھی زِیادہ احتیاط کی حاجت ہے ۔دَورانِ غسل کسی قسم کی گُفتگومت کیجئے، کوئی دُعا بھی نہ پڑھئے ، نہانے کے بعدتَولیے وغیرہ سے بدن پُونچھنے میں حَرَج نہیں ۔ نہا نے کے بعد فورًاکپڑے پہن لیجئے۔اگرمکروہ وقت نہ ہوتودو رَکعت نَفل اداکرنا مستحب ہے

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا حضورِ اکرم صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر استنجاء کرتے، اس کے بعد مکمل وضو کرتے، پھر پانی لے کر سر پر ڈالتے اور انگلیوں کی مدد سے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچاتے، پھر جب دیکھتے کہ سر صاف ہو گیا ہے تو تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر تمام بدن پر پانی ڈالتے اور پھر پاؤں دھو لیتے۔

مسلم، الصحيح، کتاب الحيض، باب صفة غسل الجنابة، 1 : 253، رقم : 316

مندرجہ بالا حدیث مبارکہ کی روشنی میں غسل کا مسنون و مستحب طریقہ یہ ہے :

نیت کرے۔

بسم اللہ سے ابتداء کرے۔

دونوں ہاتھوں کو کلائیوں تک دھوئے۔

استنجاء کرے خواہ نجاست لگی ہو یا نہ لگی ہو۔

پھر وضو کرے جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے اگر ایسی جگہ کھڑا ہے۔ جہاں پانی جمع ہو جاتا ہے تو پاؤں کو آخر میں غسل کے بعد دھوئے۔

تین بار سارے جسم پر پانی بہائے۔

پانی بہانے کی ابتداء سر سے کرے۔

اس کے بعد دائیں کندھے کی طرف سے پانی بہائے۔

پھر بائیں کندھے کی طرف پانی بہانے کے بعد پورے بدن پر تین بار پانی ڈالے۔

وضو کرتے وقت اگر پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھو لے۔

تالاب یا نہر میں غسل کا طریقہ

تالاب، دریا یا نہر میں نہانے سے پہلے کلی کریں پھر ناک میں پانی ڈال کر خوب صاف کریں اور تھوڑی دیر اس میں ٹھہرنے سے غسل کی سب سنتیں ادا ہو جائیں گی۔ اور اگر تالاب اور حوض یعنی ٹھہرے ہوئے پانی میں نہائیں تو بدن کو تین بار حرکت دینے یا جگہ بدلنے سے غسل ہو جائے گا۔

سر کے بالوں کا دھونا

اگر غسل کرنے والی عورت کے سر کے بالوں کو کھولے بغیر پانی سر کی جلد تک بخوبی پہنچ جائے تو اس کے لیے سر کے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں۔ تاہم اگر گوندھے ہوئے بالوں کی تہ تک پانی نہ پہنچے تو پھر بالوں کا کھولنا واجب ہے۔

دوران غسل قرآنی آیات اور دعاؤں کا پڑھنا

غسل کرتے ہوئے انسان بالعموم برہنہ ہوتا ہے اس لیے اس دوران قرآنی آیات یا دیگر کوئی دعا وغیرہ پڑھنا جائز نہیں یہاں تک کہ کوئی دنیوی کلام کرنا بھی منع ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *