مفسداتِ نماز
بعض اعمال کی وجہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اسے لوٹانا ضروری ہو جاتا ہے، انہیں مفسداتِ نماز کہتے ہیں۔ نماز کو فاسد بنانے والے اعمال درج ذیل
نماز میں بات چیت کرنا۔
سلام کرنا۔
سلام کا جواب دینا۔
درد اور مصیبت کی وجہ سے آہ و بکا کرنا یا اُف کہنا (لیکن جنت و دوزخ کے ذکر پر رونے سے نماز فاسد نہیں ہوتی)
چھینک آنے پر اَلْحَمْدُِﷲِ کہنا۔
کسی کی چھینک پر يَرْحَمُکَ اﷲُ یا کسی کے جواب میں يَھْدِيْکُمُ اﷲُ کہنا۔
بری خبر پر اِنَّاِﷲِ وَاِنَّا اِلَيْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنا۔
اچھی خبر پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا۔
دیکھ کر قرآن پڑھنا۔
کھانا پینا۔
عملِ کثیر یعنی ایسا کام کرنا کہ دیکھنے والا یہ گمان کرے کہ وہ نماز میں نہیں ہے۔
نمازی کا اپنے امام کے سوا کسی اور کو لقمہ دینا۔
قہقہہ کے ساتھ ہنسنا۔