نماز
درجہ بدرجہ نماز پڑھنے کا طریقہ
نماز اسلام کے عبادی احکام میں سے ہے جسے روزانہ پانچ بار معین اوقات میں انجام دینا واجب ہے۔ نماز اسلامی عباتوں میں پہلی عبادت ہے جو پیغمبر اکرمؐ اور آپ کے ماننے والوں پرمکہ مکرمہ میں واجب ہوئی۔ اسی طرح قرآن مجید اور دینی متون میں نماز کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے یہاں تک کہ اسے دین کا ستون اور دوسرے اعمال کے قبول ہونے کی شرط قرار دی گئی ہے۔
“نماز” فارسی زبان کا لفظ ہے جسے عربی میں “صلاۃ” کہا جاتا ہے جس کے معنی خم ہونا، پروردگار کی تعظیم اور تکریم کیلئے سر جھکانا، بندگی اور اطاعت کا اظہار کرنا ہے۔
قرآنی اصطلاح میں “صلاۃ” “ص ل و” کے مادے سے دعا کے معنی میں ہے، جس کا جمع “صَلَوات” ہے۔ “صلاۃ” بعض آیات میں دعا کے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔ اور نماز کو صلاۃ کہنے کہ وجہ بھی یہ ہے کہ جز کا نام کل کے اوپر رکھ دی گئی ہے کیونکہ دعا نماز کا جز ہے۔
نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ کوئی بھی شریعت اس سے خالی نہیں تھی لیکن ہر شریعت میں اس کی نوعیت مختلف تھی۔ قرآن میں حضرت حضرت ابراہیم(ع)، حضرت اسماعیل و حضرت اسحاق، حضرت موسی،حضرت زکریا،حضرت عیسی،حضرت شعیباور لقمان حکیم کی نماز کا تذکرہ ملتا ہے۔ روایات میں بھی حضرت آدم اور بہت سارے دیگر انبیاء کے نماز کا تذکرہ ملتا ہے۔
قرآن کی رو سے نماز صرف انسانوں کے ساتھ مختص نہیں بلکہ زمین اور آسمان پر موجود تمام موجودات میں سے ہر ایک مخصوص نماز رکھتا ہی۔
أَ لَمْ تر أَنَّ اللَّہ یسَبِّحُ لَه مَنْ فِی السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ الطَّیرُ صَافَّاتٍ کلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاتَه وَ تَسْبیحَه وَ اللَّہ عَلیمٌ بِما یفْعَلُونَ
ترجمہ= کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین اور آسمان پر موجود ہر مخلوق اور پر پھیلائے پرندے خدا کی تسبح کرتے ہیں؟ یقینا ان میں سے ہر ایک اپنی نماز اور تسبح سے آگاہ ہیں اور خدا وندعالم تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔سورہ نور/۴۱
نماز کو قبلہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھنا واجب ہے۔ اسی طرح نماز کے مخصوص اذکار اور افعال جیسے قیام، رکوع اور سجدہ وغیرہ ہیں۔ نماز کو فرادی یعنی انفرادی طور پر بھی پڑھی جا سکتی ہے اور جماعت کے ساتھ بھی
یومیہ واجب نمازوں کے علاوہ بہت ساری مستحب نمازیں بھی احادیث میں آئی ہیں جن کیلئے دنیا اور آخرت میں مخصوص آثار اور بہت زیادہ ثواب ذکر ہوا ہے۔ ان مستحب نمازوں میں سب سے اہم نماز شب اور نفل نمازیں ہیں۔
دین یہودمیں نماز کو تفیل کہا جاتا ہے اور اس کے احکام یہودیوں کے دعاوں کی کتابوں میں آیا ہے۔ عموما یہودی ہر روز تین نماز پڑھتے ہیں اور ہفتہ کے دن اور دوسری مقدس ایام میں ارتدکس اور دوسرے محافظہ کار فرقے “موسف” نامی ایک نماز اضافی بھی پڑھتے ہیں۔
مسیحی خداوند (باپ) یا دیگر اشخاص تثلیث (بیٹا یا روح القدس) کے ساتھ ارتباط پیدا کرنے کی غرض سے نماز پڑھتے ہیں۔ مسیحیوں کے مختلف فرقوں میں مختلف نوعیت کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ ان کے ہاں نماز اکھٹے بھی ہوتی ہے جیسے عشائے ربانی وغیرہ اور انفرادی طور پر بھی ہوتی ہے۔
اسلام کے ابتدائی ایام جس وقت پیغمبر اکرم مخفی طور پر اسلام کی دعوت میں مشغول تھے پیامبراکرم،امام علی علیہ السلام اور حضرت خدیجہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ لیکن نماز پنجگانہ معراج کی رات تقریبا مدینہ کی طرف ہجرت کے ۱۸ ماہ قبل واجب ہوئی ہے۔ یہ اس وقت یہ نمازیں سب دو رکعتی تھیں یہاں تک کہ ہجرت کے ابتدائی سال ان نمازوں میں سات رکعت کا اضافہ ہوا یوں پنجگانہ نمازیں موجودہ شکل اختیار کر گئی۔
لفظ صلاۃ (نماز)اور اسکے مشتقات ۹۸ بار قرآن میں تکرار ہوا ہے۔ قرآن میں نماز کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ بہت ساری آیات میں اسے ایمان کے بعد مؤمن کی فردی اور اجتماعی عباتوں میں سے اہم ترین عبادت کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ دوسری طرف سے نہ فقط دوزخیوں کی اولین فریاد ترک نماز کے بارے میں اقرار، بیان ہوا ہے، بلکہ نماز میں سستی کرنے والوں کو دین کا انکار کرنے والوں کے صف میں لا کھڑا کیا ہے۔قرآن میں جس طرح نماز برپا کرنے پر تاکید کی گئی ہے کسی اور واجب پر اتنا زور نہیں دیا ہے۔ قرآن نماز کو گناہوں سے روکنے والی، انسان کی فلاح اور کامیابی کا وسیلہ، زندگی کی مشکلات میں کام آنے والی، خدا کی جانب سے انبیاء کو دی جانے والا اہم سفارش،خدا کے عظیم المرتبت پیغمبروں کی سب سے بڑی نگرانی بطور خاص خاندان کے بارے میں قرار دیا ہے
نماز میں کچھ شرائط، کچھ فرائض، کچھ واجبات اور کچھ سنن و مستحبات ہیں۔ نمازی کو چاہیے کہ انہیں الگ الگ یاد رکھے تاکہ نماز میں کسی قسم کا نقص واقع نہ ہو۔
.
نماز ادا کرنے کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں تقریبًا سات سو مقامات پر نماز کا ذکر آیا ہے۔ درج ذیل احادیث مبارکہ میں نماز کی فضیلت بیان کی گئی ہے
. وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِيْنَ
البقرة، 2 : 43
’’اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ (مل کر) رکوع کیا کرو‘‘
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
البقرة، 2 : 153
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقینا اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے‘‘
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ وَآتَوُاْ الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ
البقرة، 2 : 277
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے، اور ان پر (آخرت میں) نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے
اِس کے علاوہ کثیر احادیث مبارکہ میں فضیلتِ نماز بیان کی گئی ہے اور نماز ادا نہ کرنے پر وعید آئی ہے۔ نیز نماز کی جملہ تفصیلات بھی ہمیں احادیث میں ہی ملتی ہیں۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا
خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اﷲُ عزوجل، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوْءَ هُنَّ وَصَلاَّهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُکُوْعَهُنَّ وَخُشُوْعَهُنَّ، کَانَ لَهُ عَلَی اﷲِ عَهْدُ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَی اﷲِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ غَفَرَلَهُ، وَ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ.
أبوداود، السنن، کتاب الصلاة، باب في المحافظة في وقت الصلوات، 1 : 174، 175، رقم : 425
پانچ نمازیں ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے۔ جس نے ان نمازوں کو بہترین وضو کے ساتھ ان کے مقررہ اوقات پر ادا کیا اور ان نمازوں کو رکوع، سجود اور کامل خشوع سے ادا کیا تو ایسے شخص سے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کی مغفرت فرما دے گا اور جس نے ایسا نہیں کیا (یعنی نماز ہی نہ پڑھی یا نماز کو اچھی طرح نہ پڑھا) تو ایسے شخص کے لیے اﷲ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں ہے اگر چاہے تو اس کی مغفرت فرما دے اور چاہے تو اس کو عذاب دے۔
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ فَاَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ، قَالَ : فَجَعَلَ ذَلِکَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ، قَالَ : فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ : لَبَّيْکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَالَ : إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّ الصَّلَاةَ يُرِيْدُ بِهَا وَجْهَ اﷲِ فَتَهَافَتُ عَنْهُ ذُنُوْبُهُ کَمَا يَتَهَافَتُ هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ.
احمد بن حنبل، المسند، 5 : 179، رقم : 21596
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موسمِ سرما میں جب پتے (درختوں سے) گر رہے تھے باہر نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کی دو شاخوں کو پکڑ لیا، ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شاخ سے پتے گرنے لگے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا : اے ابو ذر! میں نے عرض کیا : لبیک یا رسول اﷲ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مسلمان بندہ جب نماز اس مقصد سے پڑھتا ہے کہ اسے اﷲ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح یہ پتے درخت سے جھڑتے جا رہے ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ بِصَلَاتِهِ، فَإِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ.
نسائی، السنن، کتاب الصلاة، باب المحاسبة علی الصلاة، 1 : 232، رقم : 465
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا محاسبہ ہوگا۔ اگر نماز شرائط، اَرکان اور وقت کے مطابق ادا کی گئی ہوئی تو وہ شخص نجات اور چھٹکارا پائے گا اور مقصد اصل کرے گا۔
نماز کی چار اقسام ہیں
فرض ۔ واجب ۔ سنت ۔ نفل
نفل
تہجد، اشراق، چاشت، اوابین، صلوٰۃ التسبیح، صلوٰۃ الخوف، صلوٰۃ الحاجۃ وغیرہ نفل نمازیں ہیں۔
سنت
سنت نمازوں میں نمازِ تراویح اور دن میں فرض نمازِ پنجگانہ کے ساتھ ادا کی جانے والی سنن شامل ہیں۔
واجب
عیدین کی نمازیں واجب ہیں۔ علاوہ ازیں عشاء کے وقت تین وتر واجب ہیں۔
فرض
دن میں پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں : فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء، یہ نمازیں ہجرت سے پہلے معراج کی رات مسلمانوں پر فرض ہوئیں۔ ان کی فرضیت کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے جو شخص ان کی فرضیت کا انکار کرے وہ بالاتفاق مرتد ہے، علاوہ ازیں جمعہ کی نماز مردوں پر فرض ہے جبکہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔
نماز کے اوقات اور رکعات کی تعداد
عصر
جس وقت سایہ قد سے دگنا ہوشروع ہوتا ہے اور سورج ڈوبنے تک ریتا ہے
اس کی رکعتیں آٹھ ہیں
چار سنتیں چار فرض
ظہر
زوال کے تقریباً 15منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب سایہ قد سے بڑھ نہ جائے
اس کی رکعتیں بارہ ہیں
چار سنتیں چار فرض دو سنتیں دو نفل
فجر
سحر کے فوراً بعد فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے جو سورج نکلنے تک ہوتا ہے
اس کی رکعتیں چار ہیں
دو فرض دو سنتیں
عشاء
مغرب کےتقریبا سوا گھنٹے بعد شروع ہوتا ہے اور نصف رات تک رہتا ہے
اس کی رکعتیں سترہ ہیں
چار سنتیں چار فرض دو سنتیں تین وتر دو نفل
مغرب
سورج ڈوب جانے کے فوراً بعد
اس کی رکعتیں چھ ہیں
دو فرض دو سنتیں دو نفل
واجباتِ نماز
نماز میں درج ذیل چودہ امور واجبات میں سے ہیں
فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں قرآ ت کرنا (یعنی تنہا نماز پڑھنے والے یا باجماعت نماز میں اِمام کے لیے)
فرض نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا۔
فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور واجب، سنت اور نفل نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا بڑی آیت یا تین چھوٹی آیات پڑھنا۔
سورہ فاتحہ کو کسی اور سورت سے پہلے پڑھنا۔
قرآ ت، رکوع، سجدوں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا۔
قومہ کرنا یعنی رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہونا۔
جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھ جانا۔
تعدیلِ ارکان یعنی رکوع، سجدہ وغیرہ کو اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا۔
قعدۂ اُوليٰ یعنی تین، چار رکعت والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد کے برابر بیٹھنا۔
دونوں قعدوں میں تشہد پڑھنا۔
امام کا نمازِ فجر، مغرب، عشاء، عیدین، تراویح اور رمضان المبارک کے وتروں میں بلند آواز سے قرآ ت کرنا اور ظہر و عصر کی نماز میں آہستہ پڑھنا۔اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ کے ساتھ نماز ختم کرنا۔نمازِ وتر میں قنوت کے لیے تکبیر کہنا اور دعائے قنوت پڑھنا۔عیدین کی نمازوں میں زائد تکبیریں کہنا۔
نماز کے واجبات میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو سجدہ سہو کرنے سے نماز درست ہوجائے گی. سجدئہ سہو نہ کرنے اور قصداً تر ک کرنے سے نماز کا لوٹانا واجب ہے۔
فرائضِ نماز
نماز کے سات فرائض ہیں
تکبیرِ تحریمہ یعنی اَﷲُ اَکْبَرُ کہنا۔
قیام یعنی سیدھا کھڑے ہوکر نماز پڑھنا۔فرض، وتر، واجب اور سنت نماز میں قیام فرض ہے، بلاعذرِ صحیح اگر یہ نمازیں بیٹھ کر پڑھے گا تو ادا نہیں ہوں گی. نفل نماز میں قیام فرض نہیں۔
قرآت یعنی مطلقاًایک آیت پڑھنا۔ فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور سنت وتر و نوافل کی ہررکعت میں فرض ہے جب کہ مقتدی کسی نماز میں قرآت نہیں کرے گا۔
رکوع کرنا۔
سجدہ کرنا۔
قعدئہ اخیرہ یعنی نماز پوری کرکے آخرمیں بیٹھنا۔
خروج بصنعِہِ یعنی دونوں طرف سلام پھیرنا۔
اِن فرضوں میں سے ایک بھی رہ جائے تو نماز نہیں ہوتی اگرچہ سجدہ سہو کیا جائے۔
مستحباتِ نماز
نماز میں درج ذیل اُموربجا لانا مستحب ہے
قیام میں سجدہ کی جگہ نگاہ رکھنا۔
رکوع میں قدموں پر نظر رکھنا۔
سجدہ میں ناک کی نوک پر نظر رکھنا۔
قعدہ میں گود پر نظر رکھنا۔
سلام پھیرتے وقت دائیں اور بائیں جانب کے کندھے پر نظر رکھنا۔
جمائی کو آنے سے روکنا، نہ رکے تو حالتِ قیام میں دائیں ہاتھ سے منہ ڈھانک لیں اور دوسری حالتوں میں بائیں ہاتھ کی پیٹھ سے۔
مرد تکبیر تحریمہ کے لیے کپڑے سے ہاتھ باہر نکالیں اور عورتیں اندر رکھیں۔
کھانسی روکنے کی کوشش کرنا۔
حَيَ عَلَی الْفَلَاحِ پر امام و مقتدی کا کھڑے ہونا۔
حالتِ قیام میں دونوں پاؤں کے درمیان کم از کم چار انگلیوں کا فاصلہ ہو۔
سننِ نماز
جو چیزیں نماز میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں لیکن ان کی تاکید فرض اور واجب کے برابر نہیں سنن کہلاتی ہیں۔ نماز میں درج ذیل سنن ہیں
تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔
دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو معمول کے مطابق کھلی اور قبلہ رخ رکھنا۔
تکبیر کہتے وقت سر کو نہ جھکانا۔
امام کا تکبیر تحریمہ اور ایک رکن سے دوسرے رکن میں جانے کی تمام تکبیریں بلند آواز سے کہنا۔
سیدھے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے باندھنا۔
ثناء پڑھنا۔
تعوذ یعنی اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ پڑھنا۔
تسمیہ یعنی بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھنا۔
فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا۔
آمین کہنا
ثنا، تعوذ، تسمیہ اور آمین سب کا آہستہ پڑھنا۔
سنت کے مطابق قرآت کرنا یعنی نماز میں جس قدر قرآنِ مجید پڑھنا سنت ہے اتنا پڑھنا۔
رکوع اور سجدے میں تین تین بار تسبیح پڑھنا۔
رکوع میں سر اور پیٹھ کو ایک سیدھ میں برابر رکھنا اور دونوں ہاتھوں کی کھلی انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑ لینا۔
قومہ میں امام کا تسمیع یعنی سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَہُ اور مقتدی کا تحمید رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنا اور منفرد کا تسمیع اور تحمید دونوں کہنا۔
سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے، پھر دونوں ہاتھ، پھر ناک، پھر پیشانی رکھنا اور اٹھتے وقت اس کے برعکس عمل کرنا یعنی پہلے پیشانی، پھر ناک، پھر ہاتھ اور اس کے بعد گھٹنے اٹھانا۔
جلسہ اور قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور سیدھے پاؤں کو اس طرح کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھنا۔
تشہد میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ پر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا اور اِلَّا اﷲُ پر انگلی گرا دینا۔
قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد درودِ ابراہیمی پڑھنا۔
درود اِبراہیمی کے بعد دعا پڑھنا۔
پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا۔
ان سنتوں میں سے اگر کوئی سنت سہواً رہ جائے یا قصداً ترک کی جائے تو نماز نہیں ٹوٹتی اور نہ ہی سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے لیکن قصداً چھوڑنے والا گنہگار ہوتا ہے
مکروہاتِ نماز
جن امور کی وجہ سے نماز ناقص ہو جاتی ہے یعنی نمازی اَصل اَجر و ثواب اور کمال سے محروم رہتا ہے، انہیں مکروہات کہتے ہیں۔ ان سے اِجتناب کرنا چاہیے۔ نماز کو مکروہ بنانے والے امور درج ذیل ہیں
ہر ایسا کام جو نماز میں اﷲ کی طرف سے توجہ ہٹا دے مکروہ ہے۔
داڑھی، بدن یا کپڑوں سے کھیلنا۔
اِدھر اُدھر منہ پھیر کر دیکھنا۔
آسمان کی طرف دیکھنا۔
کمر یا کولہے وغیرہ پر ہاتھ رکھنا۔
کپڑا سمیٹنا۔
سَدْلِ ثوب یعنی کپڑا لٹکانا مثلاً سر یا کندھوں پر اس طرح ڈالنا کہ دونوں کنارے لٹکتے ہوں۔
آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی رکھنا۔
انگلیاں چٹخانا۔
بول و براز (پاخانہ / پیشاب) یا ہوا کے غلبے کے وقت نماز ادا کرنا۔ اگر دورانِ نماز میں یہ کیفیت پیدا ہو جائے اور وقت میں بھی گنجائش ہو تو نماز توڑ دینا واجب ہے۔
قعدہ یا سجدوں کے درمیان جلسہ میں گھٹنوں کو سینے سے لگانا۔
بلاوجہ کھنکارنا۔
ناک و منہ کو چھپانا۔
جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو اس کو پہن کر نماز پڑھنا۔
کسی کے منہ کے سامنے نماز پڑھنا۔
پگڑی یا عمامہ اس طرح باندھنا کہ درمیان سے سر ننگا ہو۔
کسی واجب کو ترک کرنا مثلاً رکوع میں کمر سیدھی نہ کرنا، قومہ یا جلسہ میں سیدھے ہونے سے پہلے سجدہ کو چلے جانا۔
قیام کے علاوہ اور کسی جگہ پر قرآنِ حکیم پڑھنا۔
رکوع میں قرآ ت ختم کرنا۔
صرف شلوار یا چادر باندھ کر نماز پڑھنا۔
امام سے پہلے رکوع و سجود میں جانا یا اٹھنا۔
قیام کے علاوہ نماز میں کسی اور جگہ قرآنِ حکیم پڑھنا۔
چلتے ہوئے تکبیر تحریمہ کہنا۔
امام کا کسی آنے والے کی خاطر نماز کو بلا وجہ لمبا کرنا۔
قبر کے سامنے نماز پڑھنا۔
غصب کی ہوئی زمین/مکان/کھیت میں نماز پڑھنا۔
الٹا کپڑا پہن/اوڑھ کر نماز پڑھنا۔
اچکن وغیرہ کے بٹن کھول کر نماز پڑھنا جبکہ نیچے قمیص نہ ہو۔
مفسداتِ نماز
بعض اعمال کی وجہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اسے لوٹانا ضروری ہو جاتا ہے، انہیں مفسداتِ نماز کہتے ہیں۔ نماز کو فاسد بنانے والے اعمال درج ذیل
نماز میں بات چیت کرنا۔
سلام کرنا۔
سلام کا جواب دینا۔
درد اور مصیبت کی وجہ سے آہ و بکا کرنا یا اُف کہنا (لیکن جنت و دوزخ کے ذکر پر رونے سے نماز فاسد نہیں ہوتی)
چھینک آنے پر اَلْحَمْدُِﷲِ کہنا۔
کسی کی چھینک پر يَرْحَمُکَ اﷲُ یا کسی کے جواب میں يَھْدِيْکُمُ اﷲُ کہنا۔
بری خبر پر اِنَّاِﷲِ وَاِنَّا اِلَيْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنا۔
اچھی خبر پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا۔
دیکھ کر قرآن پڑھنا۔
کھانا پینا۔
عملِ کثیر یعنی ایسا کام کرنا کہ دیکھنے والا یہ گمان کرے کہ وہ نماز میں نہیں ہے۔
نمازی کا اپنے امام کے سوا کسی اور کو لقمہ دینا۔
قہقہہ کے ساتھ ہنسنا۔
نماز مسافر
نماز مسافر قصر ہے؛ یعنی یہ کہ چار رکعتی نمازیں سفر کے دوران دو رکعتی پڑھی جاتی ہیں۔
ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورہ حمد اور دوسری سورت آہستہ پڑھی جاتی ہیں۔
مرد نمازگزار نماز صبح، مغرب اور عشاء کے دوران حمد اور سورت کو باآواز بلند پڑھیں گے جبکہ خواتین کو تمام نمازوں میں حمد اور سورت کو آہستہ پڑھنا چاہئے۔
یومیہ نمازیں تمام مکلفین پر ہر صورت میں واجب ہیں؛ سوائے حائض (ماہواری) اور نفساء خواتین کے۔ نفاس اس خون کو کہا جاتا ہے جو خواتین بچے کی پیدائش کے بعد 10 روز تک دیکھتی ہیں۔
شرائطِ نماز
نماز میں کچھ شرائط، کچھ فرائض، کچھ واجبات اور کچھ سنن و مستحبات ہیں۔ نمازی کو چاہیے کہ انہیں الگ الگ یاد رکھے تاکہ نماز میں کسی قسم کا نقص واقع نہ ہو۔
نماز کی چھ شرطیں ہیں
طہارت یعنی نمازی کا بدن اور کپڑے پاک ہوں۔
نماز کی جگہ پاک ہو۔
سترِ عورت یعنی بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے وہ چھپا ہوا ہو۔ مردکے لیے ستر ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے اور عورت کے لیے ہاتھوں، پاؤں اور چہرہ کے علاوہ سارا بدن ستر ہے۔
استقبالِ قبلہ یعنی منہ اور سینہ قبلہ کی طرف ہو۔
وقت یعنی نماز کا اپنے وقت پر پڑھنا۔
نیت کرنا . دل کے پکے ارادہ کا نام نیت ہے اگرچہ زبان سے کہنا مستحب ہے۔
نماز شروع کرنے سے پہلے ان شرطوں کا ہونا ضروری ہے ورنہ نماز نہیں ہوگی
نماز توڑنے کے عذر
بلاعذر نماز توڑنا حرام ہے، البتہ چند حالتوں میں نماز توڑنا جائز ہے مثلاً مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز توڑنا مباح ہے جبکہ جان بچانے کے لیے واجب ہے، خواہ اپنی جان یا کسی مسلمان کی جان بچانا مقصود ہو۔ نماز توڑنے کے لیے بیٹھنے کی ضرورت نہیں بلکہ کھڑے کھڑے ایک طرف سلام پھیر دینا کافی ہے۔
Set by set perform slat