غسل کی تین اقسام ہیں
غسلِ مستحب
غسلِ مسنون
غسلِ فرض
غسلِ فرض
درج ذیل صورتوں میں غسل فرض ہو جاتا ہے
جنبی کے لیے
عورت کا حیض و نفاس سے فارغ ہونے کے بعد۔
شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا۔
غسلِ مسنون
درج ذیل امور کی ادائیگی کے لیے غسل کرنا سنت ہے
جمعہ کی نماز کے لیے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
اَلْغُسْلُ يَوْمَ الجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُحْتَلِمٍ
بخاری، الصحيح، کتاب الجمعة، باب الطيب للجمعة، 1 : 300، رقم : 840
’’ہر بالغ پر جمعہ کا غسل لازم ہے۔‘‘
عیدین کی نماز کے لیے۔
حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے۔
حج کرنے والوں کے لیے میدان عرفات میں زوال کے بعد۔
غسلِ مستحب
درج ذیل امور کے لیے غسل کرنا مستحب ہے
جو آدمی پاکیزگی کی حالت میں مسلمان ہوا ہو۔
جو بچہ عمر کے اعتبار سے بالغ ہو۔
جو شخص جنون کے عارضہ سے صحت یاب ہوا ہو۔
نشتر لگوانے کے بعد۔
میت کو غسل دینے کے بعد۔
شبِ برات میں عبادت کے لیے۔
لیلۃ القدر میں بطورِ خاص عبادت کے لیے۔
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے۔
مدینہ طیبہ میں داخل ہونے کے لیے۔
قربانی کے دن مزدلفہ میں ٹھہرنے کے لیے۔
طوافِ زیارت کے لیے۔
سورج گرہن کی نماز کے لیے۔
نمازِ اِستقاء کے لیے۔
خوف کے وقت۔
دن میں سخت اندھیرے کے وقت۔
تیز آندھی کے وقت۔